بابا جی کی معصومیت
کنڈیکڑ نے کرایہ مانگا , بابا جی نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے نوجوان نے بابا جی کا کرایہ بھی دے دیا۔ بابا جی کے پوچھنے پر نوجوان نے بتایا کہ میں ہمیشہ اپنے ساتھ سفر کرنے والے بزرگوں کا کرایہ دے دیا کرتا ہوں۔ بابا جی نوجوان سے بہت متاثر ہوۓ, اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
سٹاپ پر اترنے کے بعد بابا جی نے ایک بار پھر نوجوان کا شکریہ ادا کیا ورا گھر کی طرف چل دیے۔ گھر پہنچ کر بابا جی نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو دہنگ رہ گئے ہاتھ ڈالتے ہی بابا جی کو احساس ہوا کہ جیب تو موجود ہی نہیں ہے اب وہ سمجھ گئے کہ نوجوان نے کرایہ کیوں ادا کیا تھا۔بابا جی کو اب نوجوان پہ بہت غصہ آیا۔کچھ دن بعد بابا جی بازار میں خریداری کررہے تھے کہ وہی نوجوان بابا جی کو نظر آیا اور نوجوان نے بھی بابا جی کو دیکھ لیا وہ دوڑتا ہوا آیا اور بابا جی سے لپٹ کررونے لگا اور بتایا کہ میں شرمندہ ہوں آپ کی تمام رقم بھی دے دوں گا۔ بابا جی نے سوچا چلو نوجواں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ بابا جی نے نوجوان کو معاف کر دیا۔ نوجوان نے بابا جی سے کہا میں آپ کا یہ احسان عمر بھر یاد رکھوں گا۔ اور میں آپ کو چاۓ پلانا چاہتا ہوں آپ اپنی موٹرساہیکل سامنے والے ہوٹل کے سامنے کھڑی کر دیں۔ بابا جی چاۓ پی رہے تھے ,نوجوان چاۓ ختم کر کے اٹھا اور اور بابا جی کا شکریہ ادا کر کے چاۓ کا بل ادا کر کے رخصت ہو گیا۔ بابا جی چاۓ پی کر باہر نکلے تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ کہ بابا جی کی موٹرساہیکل غائب تھی۔بابا جی سمجھ گئے کہ نوجوان پھر ہاتھ کر گیا۔ بابا جی اپنے آپ کو کوستے ہوۓ پیدل ہی گھر کی طرف چل پڑھے۔
کچھ دن ہی گزرے تھے کہ مارکیٹ میں بابا جی کا نوجوان سے آمنا سامنا ہو گیا نوجوان روتا ہوا بابا جی کی طرف بڑھا بابا جی نے نوجوان کو اپنی طرف آتے ہوۓ دیکھا تو گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔

Commentaires
Enregistrer un commentaire