اشاعتیں

کیا آپ آن لائن ارننگ کرنا چاہتے ہیں؟ مگر فری میں نہیں۔ کچھ کام کر کے۔

تصویر
 پیسے کمانے کے شوق میں بہت ساری ایپلیکیشنز اور ویب ساہیٹس دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ہر ساہیٹ  کا یہ دعوا ہوتا ہے کہ اس سائٹ سے آپ ایک ہی دن میں امیر ہو جاہیں گے۔غرض ہر سائٹ اور ایپلیکیشن دیکھ لی کہ شاؠد یہ مجھے امیر بنا دے۔مگر کھول کہ دیکھنے پہ پتا چلا کہ یہ تو خود کمانے کے چکر میں ہیں۔بہت سے تجربات سے یہ بھی فاؠدہ ہوا کہ کچھ سائٹس ایسی بھی مل ہی گئیں جو کچھ نا کچھ دے بھی رہی ہیں۔وہ سائٹس کون سی ہیں یہ بتانے سے پہلے ایک بات ضرور نوٹ کر لیں ۔کہ آپ کے پاس کوئ مہارت ہو یا نہ ہو مگر مستقل مزاجی ضرور ہونی چاہیے ۔تب آپ کچھ کما سکتے ہیں۔اور ہاں ایسی سائٹس سے دور رہیں جو راتوں رات امیر بنانے کے خواب دیکھاتی ہیں ۔وہ بھی کچھ کیے بغیر۔ تو چلیں آپ کو بتا ہی دوں کہ ایسی کون سی سائٹس ہیں جن سے آپ کچھ کما سکتے ہیں۔ 1. WCXWORK.COM یہ بنیادی طور پر ایک امریکن کمپنی ہے۔ جو ٹریڈنگ کا کام  کرتی ہے۔مگر اس کا ایک پاکستان ورین ہے ۔جس میں آپ فری اکاؤنٹ بنا کر کچھ پیسے کما سکتے ہیں۔ آپ نے اکاۏنٹ بنانا ہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ ٹاسک کرنے ہیں۔ مثلا کچھ ویڈیوز دیکھنی ہیں۔ کچھ فیسبک یا یو ٹیوب اکاۏنٹس...

ریموٹ کنٹرول

تصویر
  ایک خاتون خریداری کرنے مال میں گئی۔ کیش کاؤنٹر پر ادائیگی کرنے کے لئے اس نے پرس کھولا تو دکاندار نے خاتون کے پرس میں ٹی وی کا ریموٹ دیکھا دکاندار سے رہا نہیں گیا اس نے پوچھا آپ ٹی وی کا ریموٹ ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں نہیں، ہمیشہ نہیں،  "لیکن آج میرے شوہر نے خریداری کے لئے میرے ساتھ آنے سے انکار کر دیا ". تو میں tv میں مذہبی چینل لگا کے آئی ہوں  کہانی ابھی جاری ہے دکاندار ہنستے ہوئے بولا میں تمام سامان واپس رکھ لیتا ہوں کیوں کہ آپ کے شوہر نے آپ کا کریڈٹ کارڈ بلاک کر دیا ہے. سبق : - اپنے شوہر کے شوق کا احترام کریں. 👈کہانی اب بھی جاری ہے. خاتون تھوڑی ہنسی پھر اپنے پرس سے اپنے شوھر کا کریڈٹ کارڈ نکالا اور تمام payments کی ادائیگی کر دی (شوہر نے بیوی کا کارڈ بلاک کر دیا تھا پر اپنا کارڈ نہیں)  سبق - ایک عورت کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہئے ایک ہاتھ میں لپسٹک - دوسرے میں موبائل - ایک کان پریشر ککر کی سیٹی پر - دوسرا واٹس اپ کی نوٹیفکیشن پر - ایک آنکھ ٹی وی پر - دوسری شوہر کی حرکتوں پر کون کہتا ہے عورت کی زندگی آسان ہے ...

منے کے ابا, دوشیزہ اور پھٹی دیوار

تصویر
  منا اور منے کے ابا پہلی بار شہر گئے۔ ایک شاپنگ مال میں   انھوں نے لفٹ دیکھی۔ منے نے ابا سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ ابا نے زندگی میں پہلی بار سلور کی دیواریں بٹن دبانے سے پھٹتے دیکھی تھیں۔ انھوں نے صاف بتایا کہ انھیں اس چیز کا علم نہیں۔ باپ بیٹا کھڑے لفٹ کو دیکھتے رہے۔ اسی دوران ایک نحیف بڑھیا ویل چیئر پر بیٹھی آئی، بٹن دبایا اور سلور کی دیواریں پھٹیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نمودار ہو گیا۔ وہ عورت اپنی ویل چیئر پر بیٹھی اس کمرے میں داخل ہو گئی اور دروازہ بند ہو گیا۔ بند دروازے کی ایک جانب نمبر چلنے لگے: 1-2-3-4-5-6 کچھ توقف کے بعد وہی نمبر الٹے چلنے لگے: 5-4-3-2-1 دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی بیس سالہ حسینہ کیٹ واک کرتی باہر نکلی۔ جذبات سے سرشار ابا نے مُنّے کو تھام لیا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولے: جا اوئے جلدی اپنی اماں نوں پھڑ کے لیا

بابا جی کی معصومیت

تصویر
  کنڈیکڑ نے کرایہ مانگا , بابا جی نے جیب کی  طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ  ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے نوجوان نے بابا جی کا کرایہ بھی دے دیا۔ بابا جی کے پوچھنے پر نوجوان نے بتایا کہ میں ہمیشہ اپنے ساتھ سفر کرنے والے بزرگوں کا کرایہ دے دیا کرتا ہوں۔ بابا جی نوجوان سے بہت متاثر ہوۓ, اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔ سٹاپ پر اترنے کے بعد بابا جی نے ایک بار پھر نوجوان کا شکریہ ادا کیا ورا گھر کی طرف چل دیے۔ گھر پہنچ کر بابا جی نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو دہنگ رہ گئے  ہاتھ ڈالتے ہی بابا جی کو احساس ہوا کہ جیب تو موجود ہی نہیں ہے اب وہ سمجھ گئے کہ نوجوان نے کرایہ کیوں ادا کیا تھا۔بابا جی کو اب نوجوان پہ بہت غصہ آیا۔ کچھ دن بعد بابا جی بازار میں خریداری کررہے تھے کہ وہی نوجوان بابا جی کو نظر آیا اور نوجوان نے بھی بابا جی کو دیکھ لیا وہ دوڑتا ہوا آیا اور بابا جی سے لپٹ کررونے لگا اور بتایا کہ میں شرمندہ ہوں آپ کی تمام رقم بھی دے دوں گا۔ بابا جی نے سوچا چلو نوجواں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ بابا جی نے نوجوان کو معاف کر دیا۔ نوجوان نے بابا جی سے کہا میں آپ کا یہ احسان عمر بھر یاد رکھوں گا۔ اور ...

میاں جی کا کلینڈر

تصویر
 ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺩﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﺑﺲ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ کہہ ﺩﯼ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ. ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﯾﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﯾﺎ ﮔﮭﮍﯼ ﯾﺎ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮦ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﯽ. ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﻣﯿﻨﮕﻨﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﮯ. ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﻮ ﭼﮭﻨﮯ ﺁﺗﺎ ﻟﻮﭨﺎ ﺍﻟﭩﺘﮯ ﻣﯿﻨﮕﻨﯿﺎﮞ ﮔﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﮐﺮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ. ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﻟﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻣﯿﻨﮕﻨﯿﺎﮞ ﮐﺮﺩﯾﮟ. ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﯾﺎ. ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ گئے ﺍﻭﺭ ﻟﻮﭨﺎ ﺍﻟﭩﺎ ﺗﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮگیے. ﻟﻮﭨﺎ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﺗﮏ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﺒﻮﺭاً ﮔﻨﺘﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ. ﮔﻨﺘﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ اور ﺁﺩﮪے ﮔﮭﻨﭩﮯ بعد ﭘﺴﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﮯ.  ﺳﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛  ﺟﯽ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﮯ؟؟  ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ 80 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﮯ. ﺳﺎﺋﻞ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮐﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ 80 ﺑﮭﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ﻣﯿﺎﮞ ﺟﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﺮﺧﻮﺭﺩﺍﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﮐﺮ 80 ﺑﺘﺎﺭﮨﺎ ﮨﻮںو ﺭﻧﮧ ﻟﻮﭨﮯ کے حساب سے ﺗﻮ 280 ﮨﮯ....ی_دم پاکستان سوئمنگ ...

نئے پاکستان میں چاٹ کی ریٹ لسٹ

تصویر
   ایک دہی بھلے فروٹ چاٹ کی دکان پر چاٹ کی اقسام بمعہ قیمت فہرست آویزاں تھی جس پر لکھا تھا 1. سادہ چاٹ50 روپے 2. اسپیشل چاٹ 60 روپے  3. ایکسٹرا اسپیشل چاٹ 70 روپے  4. ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ80 روپے 5. سنڈے اسپیشل چاٹ 100 روپے میں نے سوچا روزانہ یہ مختلف قسم کی چاٹ کا ذائقہ چکھنا چاہیۓتین چار دن میں احساس ہوا کہ ذائقہ تو ایک ہی ہے کوئی فرق نہیں ہے دکاندار سے پوچھا کہ بھائی یہ کیا ماجرا ہے تو وہ بولا  سادہ چاٹ ایسے ہی پلیٹ میں دے دی جاتی ہے اسپیشل چاٹ ,, چمچہ دھو کے دی جاتی ہے ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ,, چمچہ اور پلیٹ دھو کے دی جاتی ہے  ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ,, ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہاتھ بھی دھو کے دیتا ہوں میں نے پوچھا بھائی یہ سنڈے اسپیشل چاٹ میں کیا ہوتا ہے تو وہ بولا سنڈے یعنی اتوار کو میں خود نہا کر آتا ہوں. پاکستان کا حال بھی چاٹ بنانے اور کھانے والوں کی طرح ہے۔ پاکستان وہی ہے کبھی اسے نیا بنانے کا دعوا کیا جاتا ہے کبھی پرانے کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ اور عوام بھی میرے جیسی کہ ہر ذائقے کو چکھنا ضروری سمجھتی ہے۔ہر سیاسی پارٹی نے ریٹ لسٹ آویزا...

فرنکفرٹ ائرپورٹ اور بوڑھی عورت

تصویر
  فرنکفرٹ ائرپورٹ کے قریب ایک گاؤں جس کا نام ٹریبور تھا وہاں کی رہائشی ایک بوڑھی عورت نے فرنکفرٹ انٹرنیشنل ائرپورٹ کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دی جس کی وجہ عورت نے کچھ یوں بیان کی رات کے وقت جہازوں کا شور اتنا زیادہ ہوتا ھے کہ میں رات کو سو نہیں سکتی، جس کی وجہ سے میری اکثر طبعیت خراب رہتی ھے عدالت میں جج نے اُس بوڑھی عورت کی پوری بات سننے کے بعد عورت سے پوچھا کہ آپ اب کیا چاہتی ھے؟ اس شور کے عوض آپ ائرپورٹ سے کچھ معاوضہ حاصل کرنا چاہتی ہیں یا ائرپورٹ سے دور ایک عدد گھر حاصل کرنا چاہتی ھے؟ عورت نے جواب میں کچھ یوں کہا میں یہاں اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہوں اور عرصہ دراز سے یہاں زندگی گزار رہی ہوں، چونکہ اب میری طبعیت اس قدر شور برداشت نہیں کر سکتی، اسلئے اس مسئلے کا کوئی اور معقول حل تلاش کیا جائے اور ساتھ یہ بتایا کہ نا تو مجھے کوئی پیسوں کی ضرورت ھے اور نا ہی میں اپنا گاؤں چھوڑ کر کہیں جانا چاہتی ہوں اس بات سے اُس وقت کے موجودہ حکام بھی بہت پریشان ہوئے کہ اب اس مسئلے کا کیا حل ہو سکتا ھے نا تو عورت یہاں سے جانا چاہتی ھے اور نا اتنے بڑے ائرپورٹ کو کہیں اور منتقل کیا جا سکتا ھے ائرپ...